کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 499
سفر کرنا۔ ۵. سفر مکروہ: انسان کا اکیلے رات کو سفر کرنا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی الْوَحْدَۃِ مَا أَعْلَمُ مَا سَارَ رَاکِبٌ بِلَیْلٍ وَحْدَہٗ))[1] ’’اکیلے رات سفر کرنے کے نقصانات کا جو مجھے علم ہے، اگر لوگوں کو علم ہو جائے تو کوئی سوار رات کو اکیلے سفر نہ کرے۔‘‘ سفر کے فوائد وثمرات 1. علم ومعرفت کا حصول: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَلْتَمِسُ فِیْہِ عِلْمًا سَہَّلَ اللّٰہُ لَہٗ بِہٖ طَرِیْقًا إِلَی الْجَنَّۃِ))[2] ’’جو ایسے راستے پر چلے جس میں وہ علم تلاش کرتا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت کی طرف جانے والا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔‘‘ 2. دعاکی قبولیت کا سبب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثَلاَثُ دَعْوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٍ لَا شَکَّ فِیْہِنَّ: دَعْوَۃُ الْمَظْلُوْمِ، وَدَعْوَۃُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَۃُ الْوَالِدِ عَلیٰ وَلَدِہٖ))[3] [1] صحیح البخاری: ۲۹۹۸. [2] سنن الترمذی: ۲۶۴۶۔ سنن ابن ماجہ: ۲۲۳. [3] سنن الترمذی: ۱۹۰۵.