کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 498
سفر کے آداب سفر کا لغوی معنی : سفر کا لفظی مطلب ہے مسافت کو طے کرنا اور اصطلاحی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے: ہُوَ الْخُرُوْجُ عَنْ عِمَارَۃِ مَوْطِنِ الْإِقَامَۃِ قَاصِدًا مَکَانًا یَبْعُدُ مَسَافَۃً یَصِحُّ فِیْہَا قَصْرُ الصَّلوٰۃِ۔[1] ’’سفر سے مراد اپنی اقامت گاہ سے کسی ایسی جگہ پر پہنچنے کا ارادہ کرتے ہوئے نکلنا جو اتنی مسافت پر ہو کہ اس میں نماز قصر ادا کرنا درست ہو۔‘‘ سفر کی اقسام ۱. سفرواجب: جہاد، عمرہ اور حج کا سفر جس پر جہاد، عمر ہ اورحج واجب ہو۔ ۲. سفر مستحب: نفلی حج، عمرہ اور جہاد کا سفر۔ ۳. سفر مباح: ہرجائز تجارت اور جائز کام کے لیے سفر۔ ۴. سفر حرام: شراب، ڈاکہ زنی اور دیگر حرام کاموں کے لیے سفر کرنا اور عورت کا محرم کے بغیر [1] معجم لغۃ الفقہاء، ص: ۲۱۹.