کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 492
مِنِّیْ بِالْأَمْسِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مُتَخَوِّفٌ، فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم : ((إِنَّکَ وَطَئْتَ بِنَعْلِکَ عَلٰی رِجْلِیْ بِالْأَمْسِ فَأَوْجَعْتَنِیْ فَنَفَحْتُکَ بَالسَّوْطِ فَہٰذِہٖ ثَمَانُوْنَ نَعْجَۃً فَخُذْہَا بِہَا)) [1] ’’ غزوہ حنین کے دن میرے پاؤں میں کھردری جوتی تھی۔ بھیڑ کی وجہ سے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں روند دیا۔ چنانچہ آپ نے مجھے اپنے کوڑے سے پیچھے کیا اور فرمانے لگے: بِسْمِ اللّٰہِ تو نے مجھے تکلیف دی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے رات ملامت کی حالت میں گذاری، میں دل میں کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ میں نے کیسے رات گذاری۔ جب ہم نے صبح کی تو ایک آدمی آواز دے رہا تھا کہ فلاں آدمی کہاں ہے؟ تو میں سمجھ گیا کہ اللہ کی قسم! یہ جو میں نے کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی ہے، اسی وجہ سے مجھے بلایا جا رہا ہے۔ چنانچہ میں (آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے) چل پڑا، اور میں ڈر رہا تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کل تو نے میرے پاؤں کو اپنی جوتی کے ساتھ روندا تھا اور میں نے تمہیں اپنے کوڑے کے ساتھ پیچھے کیا تھا، یہ اَسّی (۸۰) دُنبیاں ہیں، یہ اس کے بدلے میں لے لو۔‘‘ ٭…سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: کَأَنِّیْ أَنْظُرُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ یَحْکِیْ نَبِیًّا مِنَ الْأَنْبِیَائِ، ضَرَبَہٗ قَوْمُہٗ فَأَدْمَوْہُ، فَہُوَ یَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْہِہٖ وَیَقُوْلُ: ((رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَإِنَّہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ)) [2] ’’میں گویا (چشمِ تصور سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ایک نبی کا [1] سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۳۰۴۳. [2] صحیح البخاری: ۶۹۲۹۔ صحیح مسلم: ۱۷۹۲.