کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 490
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلیٰ اخلاق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ ﴾ [القلم: ۴] ’’اور بے شک آپ اعلیٰ اخلاق پر فائز ہیں۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: أَنَّ سَعْدَ بْنَ ہِشَامٍ سَأَلَہَا فَقَالَ: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنْبِئْنِیْ عَنْ خُلُقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ، قَالَتْ: أَلَیْسَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ نَبِیِّ اللّٰہِ کَانَ الْقُرْآنُ۔[1] سعد بن ہشام نے ان سے سوال کیا اور کہا: اے اُم المومنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتلائیے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیاتو نے قرآن نہیں پڑھا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ تو آپ نے فرمایا: بلاشبہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تھا۔‘‘ اور دوسری روایت میں الفاظ یوں ہیں: کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ۔[2] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تھا۔‘‘ اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ)) [3] ’’میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیاہوں۔‘‘ [1] صحیح مسلم: ۷۴۶. [2] صحیح الجامع: ۴۸۱۱. [3] صحیح الجامع: ۲۳۴۹۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۴۵.