کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 488
16. حسنِ اخلاق آدمی کو لوگوں کا محبوب بنا دیتا ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّکُمْ لَنْ تَسَعُوا النَّاسَ بِأَمْوَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَسَعُھُمْ مِنْکُمْ بَسْطُ الْوَجْہِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ)) [1] ’’یقینا تم اپنے مالوں کے ذریعے لوگوں پر نہیں چھا سکتے، البتہ تم میں سے کوئی چہرے کی کشادگی (مسکراہٹ) اور اچھے اخلاق کے ذریعے ان پر چھا سکتا ہے۔‘‘ 17. حسن اخلاق جہنم کی آگ حرام ہونے کا باعث ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَیْہِ النَّارُ)) ’’کیا میں تمہیں اس شخص کا نہ بتلاؤں جس پر جہنم کی آگ حرام ہے؟‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں (ضرور بتلائیے)۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((عَلٰی کُلِّ ہَیْنٍ لَیْنٍ قَرِیْبٍ سَہْلٍ)) [2] ’’ہر باوقار و سنجیدہ، نرم مزاج، قربت رکھنے والے اور (لوگوں کے لیے) آسانی پیدا کرنے والے شخص پر۔‘‘ 18. حسن اخلاق خیر و برکات کا منبع و مصدر ہے: سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاکَ فِی صَدْرِکَ، وَکَرِہْتَ أَنْ [1] صحیح الترغیب والترھیب: ۲۶۶۱. [2] سنن الترمذی: ۲۴۸۸۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۹۳۸.