کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 486
13. حسن اخلاق گھروں کی آبادی اور عمروں میں اضافے کا ذریعہ ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ((إِنَّہٗ مَنْ أُعْطِیَ حَظُّہٗ مِنَ الرِّفْقِ، فَقَدْ أُعْطِیَ حَظُّہٗ مِنْ خَیْرِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَصِلَۃُ الرَّحِمِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَحُسْنُ الْجِوَارِ یَعْمُرَانِ الدِّیَارَ، وَیَزِیدَانِ فِی الْأَعْمَارِ)) [1] ’’جس شخص کو نرمی سے حصہ دیا گیا اس کو دنیا و آخرت کی بھلائی سے حصہ عطا کر دیا گیا، اور صلہ رحمی، اچھا اخلاق اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک گھروں کی آبادی اور عمروں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔‘‘ 14. حسن اخلاق آدمی کو سب سے بہتر بنا دیتا ہے: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا، وَکَانَ یَقُولُ: ((إِنَّ مِنْ خِیَارِکُمْ أَحْسَنَکُمْ أَخْلاَقًا)) [2] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو فحش گو تھے اور نہ ہی بدزبان تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: یقینا تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اخلاق کے لحاظ سے تم سب سے اچھا ہے۔‘‘ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ، مَنْ خَیْرُ النَّاسِ؟ قَالَ: ((ذُوْ الْقَلْبِ الْمَخْمُومِ، وَاللِّسَانِ الصَّادِقِ)) قُلنَا: فَقَدْ عَرَفْناَ الصَّادِقَ فَمَا ذُوْ الْقَلْبِ الْمَخْمُومِ؟ قَالَ: ((ہُوَ التَّقِیُّ النَّقِیُّ الَّذِی لاَ إِثْمَ فِیہِ [1] مسند أحمد: ۲۵۲۹۸۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۵۱۹. [2] صحیح البخاری: ۳۵۵۹۔ صحیح مسلم: ۲۳۲۱.