کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 484
باچھیں پھاڑ پھاڑ کر باتیں کرنے والے ہوں گے۔‘‘ 10. حسن اخلاق جنت میں لے جانے والا عمل ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم عَنْ أَکْثَرِ مَا یُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّۃَ، فَقَالَ: ((تَقْوَی اللّٰہِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ)) وَسُئِلَ عَنْ أَکْثَرٍمَا یُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ، فَقَالَ: ((الْفَمُ وَالْفَرَجُ)) [1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ وہ کونسی چیز ہے جو اکثر لوگوں کو جنت میں لے کر جائے گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : اللہ کا ڈر اور اچھا اخلاق۔ پھرسوال کیا گیا کہ وہ کونسی چیز ہے جو اکثر لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: منہ اور شرمگاہ۔‘‘ منہ کے ذریعے بدزبانی اور بداخلاقی بھی ہوتی ہے اور اس کے ذریعے حرام خوری بھی ہوتی ہے، اور یہ دونوں ہی جہنم میں لے جانے والے اعمال ہیں۔ نیز شرم گاہ کا ناجائز استعمال، یعنی بدکرداری بھی جہنم میں لے جانے والا قبیح عمل ہے۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ: جَمَعَ النَّبِيُّ صلي اللّٰه عليه وسلم بَینَ تَقْوَی اللّٰہِ وَحُسْنِ الْخُلُقِ لِأَنَّ تَقْوَی اللّٰہِ یُصْلِحُ مَا بَینَ الْعَبْدِ وَبَینَ رَبِّہٖ وَحُسْنُ الْخُلُقِ یُصْلِحُ مَا بَینَہٗ وَبَینَ خَلْقِہٖ، فَتَقْوَی اللّٰہِ تُوجِبُ لَہٗ مَحَبَّۃَ اللّٰہِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ یَدْعُو النَّاسَ إِلٰی مَحَبَّتِہٖ۔[2] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقویٰ اور حسن اخلاق کو جمع کیا ہے، کیونکہ تقویٰ بندے اور اس کے رب کے درمیان معاملات کی اصلاح کرتا ہے جبکہ حسن اخلاق [1] سنن الترمذی : ۲۰۰۴. [2] الفوائد لابن القیم: ۱-۵۴.