کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 482
’’بلاشبہ لوگوں کو حسن اخلاق سے بڑھ کر کوئی بہتر چیز نہیں دی گئی۔‘‘ 7. حسن اخلاق نبوت کا ایک حصہ ہے: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ الْہَدْیَ الصَّالِحَ وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ جُزْئٌ مِنْ سَبْعِیْنَ جُزْئً مِنَ النُّبُوَّۃِ)) [1] ’’یقینا اچھی سیرت اور اچھا وقار نبوت کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔‘‘ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ الْہَدْیَ الصَّالِحَ وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ وَالْاِقْتِصَادَ جُزْئٌ مِنْ خَمْسَۃٍ وَّعِشْرِیْنَ جُزْئً مِنَ النُّبُوَّۃِ)) [2] ’’یقینا اچھی سیرت، اچھا وقار اور میانہ روی نبوت کے پچیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔‘‘ 8. حسن اخلاق سب سے بھاری عمل ہے: سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَثْقَلُ شَیْئٍ فِی الْمِیْزَانِ الْخُلُقُ الْحَسَنُ)) [3] ’’ترازو میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ بھاری ہو گی تووہ حسن اخلاق ہے۔‘‘ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَثْقَلُ شَیْئٍ فِی مِیْزَانِ الْمُؤْمِنِ خُلُقٌ حَسَنٌ، وَاِنَّ اللّٰہَ یُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ الْبَذِیئَ)) [4] ’’مومن کے (اعمال والے) ترازو میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ بھاری ہو گی تووہ [1] صحیح الجامع: ۱۹۹۲. [2] صحیح الجامع: ۱۹۹۳. [3] صحیح الجامع: ۱۳۴۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۸۷۸. [4] صحیح الجامع: ۱۳۵۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۸۷۶.