کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 481
مَعَالِی الْأَخْلَاقِ وَیَکْرَہُ سَفْسَافَہَا)) [1] ’’اللہ تعالیٰ کریم ہے نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، بہت سخی ہے اور سخاوت و اخلاق کی بلندیوں کو پسند کرتا ہے اور اخلاقی پستیوں کو نا پسند جانتا ہے۔‘‘ اسی طرح سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یُحِبُّ مَعَالِی الْأُمُورِ وَأَشْرَافِھَا وَیَکْرَہُ سَفْسَافَہَا)) [2] ’’یقینا اللہ تعالیٰ عالی شان اور اشرف کاموں کو پسند فرماتا ہے اور اخلاقی لحاظ سے گرے ہوئے کاموں کو ناپسند کرتا ہے۔‘‘ 5. حسن اخلاق شادی کا بہترین معیار ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا أَتَاکُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَہٗ وَدِیْنَہٗ فَزَوِّجُوْہُ إِلَّا تَفْعَلُوْا تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِیْضٌ)) [3] ’’جب تمہارے پاس ایسا آدمی آجائے جس کا دین اور اخلاق تمہیں پسند ہو تواس کی شادی کر دو (یعنی اپنی بیٹی کا نکاح دے دو) وگرنہ زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو جائے گا۔‘‘ 6. حسن اخلاق بے مثال نعمت ہے: سیدنا اُسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ النَّاسَ لَمْ یُعْطُوْا شَیْئًا خَیْرًا مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ)) [4] [1] صحیح الجامع: ۱۷۴۴، ۱۸۰۱۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۶۲۶، ۱۶۲۸. [2] صحیح الجامع: ۱۸۹۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۳۷۸. [3] صحیح الجامع: ۲۷۰۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۰۲۲. [4] صحیح الجامع: ۱۹۷۷.