کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 477
4. امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حُسْنُ الْخُلُقِ أَنْ لَّا تَغْضَبْ وَلَا تَحْقِدْ۔[1] ’’حسن خلق یہ ہے کہ تو غصہ سے اجتناب کر اور(سینے ) میں کینہ اور بغض نہ رکھ۔‘‘ 5. سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حُسْنُ الْخُلُقِ فِیْ ثَلَاثِ خِصَالٍ: اجْتِنَابِ الْمَحَارِمِ وَطَلَبِ الْحَلَالِ وَالتَّوْسِعَۃِ عَلَی الْعِیَالِ۔[2] ’’ حسن اخلاق تین خصلتوں میں ہے: محرمات سے اجتناب کرنا، حلال کی طلب کرنا اور اہل وعیال پر وسعت کرنا۔ حسن ِ اخلاق کی نشانی : امام ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: إِذَا حَسُنَتْ أَخْلَاقُ الْإِنْسَانِ کَثُرَ مُصَافُوْہُ وَقَلَّ مُعَادُوْہُ فَتَسَھَّلَتْ عَلَیْہِ الْأُمُوْرُ الصِّعَابُ وَلَانَتْ لَہُ الْقُلُوْبُ الْغِضَابُ۔[3] ’’جب انسان کا اخلاق اچھا ہو جاتا ہے تواس سے مصافحہ کرنے والے زیادہ ہوجاتے ہیں اور اس کے دشمن کم ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اس پر مشکل ترین کام آسان ہو جاتے ہیں او ر غصے والے دل اس کے لیے مہربان ہو جاتے ہیں۔‘‘ اخلاق کے فوائد وثمرات حسن اخلاق کے بہت سارے فوائد وثمرات ہیں، جن میں سے ہم صرف دس کا تذکرہ کریں گے۔ [1] جامع العلوم والحکم: ۱۶۰. [2] احیاء العلوم: ۳/۵۳. [3] أدب الدنیا والدین: ۲۳۶.