کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 475
’’اگر تُو اپنے دِل کی نرمی چاہتا ہے تو مسکینوں کو کھانا کھلایا کر اور یتیم کے سر پہ ہاتھ پھیرا کر۔‘‘ اخلاق اچھا کرنا اور موت کو یاد کرنا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: کُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم فَجَائَ ہٗ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ صلي اللّٰه عليه وسلم ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَیُّ الْمُؤْمِنِینَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((أَحْسَنُہُمْ خُلُقًا))، قَالَ: فَأَیُّ الْمُؤْمِنِینَ أَکْیَسُ؟ قَالَ: ((أَکْثَرُہُمْ لِلْمَوْتِ ذِکْرًا، وَأَحْسَنُہُمْ لِمَا بَعْدَہٗ اسْتِعْدَادًا، أُولٰئِکَ الْأَکْیَاسُ)) [1] ’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو ایک انصاری آدمی آپ کے پاس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، پھر بولا: اے اللہ کے رسول! مومنوں میں سے کون افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ان میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے اچھا ہو۔ اس نے کہا: مومنوں میں سے عقل مند کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سب سے زیادہ موت کو یاد کرتا ہو اور جس کی موت کے بعد (والی زندگی) کے لیے سب سے اچھی تیاری ہو، یہی لوگ عقل مند ہیں۔‘‘ [1] سنن ابن ماجہ: ۴۲۵۹۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۳۸۴.