کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 473
عدمِ خشوع کی بنیادی وجہ خشوع نہ ہونے کی بنیادی وجہ دِل کا بگاڑ اور سختی ہے۔ اگر دِل کا بگاڑ اور سختی دُور ہو جائے تو تمام اعمال خوش اسلوبی سے انجام پاتے ہیں اور اگر یہی دُور نہ ہو تو پھر سارے اعمال ہی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ: ((أَلاَ وَإِنَّ فِی الجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ کُلُّہٗ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ کُلُّہٗ، أَلاَ وَہِیَ القَلْبُ)) [1] ’’سنو! بلاشبہ جسم میں گوشت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے کہ جب وہ درست رہتا ہے تو سارا جسم بھی درست رہتا ہے اور جب وہ بِگڑجاتا ہے تو سارا جسم بھی بِگڑجاتا ہے، یادرکھو! وہ دِل ہے۔‘‘ دِل کو درست کرنے کے طریقے دِل کی سختی اور بگاڑ کو ختم کرنے اور اس میں نرمی اور خشوع پیدا کرنے کے لیے درج ذیل صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں: ذِمہ داریوں کو ادا کرنا: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ ﴾ [المائدۃ: ۱۳] ’’پھر ان کی عہدشکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر اپنی لعنت نازل فرما دی اور ان کے دِل سخت کر دِیے کہ وہ کلام کو اس کی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں اور جو کچھ انہیں نصیحت کی گئی تھی اس کا بہت بڑا حصہ بھلا بیٹھے۔‘‘ [1] صحیح البخاری: ۵۲.