کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 472
’’وہ نماز کے رکوع و سجود کامل طور پر ادا نہیں کرتا۔‘‘ 4. رحمتِ الٰہی سے محرومی: سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلٰی صَلَاۃِ عَبْدٍ لَا یُقِیمُ فِیہَا صُلْبَہٗ بَیْنَ رُکُوعِہَا وَسُجُودِہَا)) [1] ’’اللہ تعالیٰ ایسے بندے کی نماز کی طرف (رحمت کی) نظر سے نہیں دیکھتا جو نماز میں رکوع و سجود کے دوران اپنی پشت سیدھی نہیں رکھتا۔‘‘ 5. ملتِ اسلامیہ پر موت نہیں آتی: سیدنا ابوعبداللہ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: صَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم بِأَصْحَابِہٖ، ثُمَّ جَلَسَ فِی طَائِفَۃٍ مِنْہُمْ، فَدَخَلَ رَجُلٌ، فَقَامَ یُصَلِّی، فَجَعَلَ یَرْکَعُ وَیَنْقُرُ فِی سُجُودِہٖ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم : ((أَتَرَوْنَ ہٰذَا، مَنْ مَاتَ عَلٰی ہٰذَا مَاتَ عَلٰی غَیْرِ مِلَّۃِ مُحَمَّدٍ)) [2] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دِن) اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، پھر ان کی ایک جماعت میں بیٹھ گئے۔ اسی اثناء میں ایک شخص (مسجد میں) داخل ہوا تو اس نے نماز پڑھی، اس نے رکوع کرنا شروع کیا اور اپنے سجدوں میں ٹھونگے مارنے لگا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس شخص کو دیکھ رہے ہو، جو شخص اس حالت میں مر گیا وہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ملت و دِین پر نہیں مرے گا۔‘‘ [1] مسند أحمد: ۱۶۲۸۳۔ المعجم الکبیر للطبرانی: ۸۲۶۱. [2] صحیح ابن خزیمۃ: ۶۶۵.