کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 471
ثُمْنُہَا سُبْعُہَا سُدْسُہَا خُمْسُہَا رُبْعُہَا ثُلُثُہَا نِصْفُہَا)) [1] ’’انسان نماز سے فارغ ہوتا ہے اور اس کے لیے نماز سے صرف دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا اور آدھا حصہ ہی لکھا جاتا ہے۔‘‘ یعنی جس شخص کی نماز میں جس قدر زیادہ خشوع ہو گا، اتنا ہی زیادہ اسے اجر ملے گا، اور جس کا خشوع جتنا کم ہوتا جائے گا اس کا اجر بھی اتنا کم ہوتا جائے گا۔ 2. نفاق کی علامت: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((تِلْکَ صَلَاۃُ الْمُنَافِقِ، یَجْلِسُ یَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتّٰی إِذَا کَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَہَا أَرْبَعًا، لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیہَا إِلَّا قَلِیلًا)) [2] ’’یہ منافق کی نماز ہوتی ہے کہ بندہ بیٹھ کر سورج کا انتظار کرتا رہے، حتیٰ کہ جب وہ شیطان کے سینگوں کے درمیان میں آ جائے تو یہ اُٹھ کر چار ٹھونگے مارے (اور) ان میں اللہ کا بس تھوڑا سا ہی ذِکر کرے۔‘‘ 3. سب سے بڑا اور بُرا چور: ٭…سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ أَسْوَأَ النَّاسِ سَرِقَۃً الَّذِی یَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِہٖ)) ’’یقینا لوگوں میں سب سے بُرا چور وہ ہے جو اپنی نماز سے چوری کرتا ہے۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آدمی نماز سے کیسے چوری کر سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یُتِمُّ رُکُوعَہَا وَلَا سُجُودَہَا)) [3] [1] سنن أبی داود: ۷۹۶۔ صحیح الجامع :۱۶۲۶. [2] صحیح مسلم: ۶۲۲. [3] مسند أحمد: ۱۱۵۳۲۔ صحیح الجامع: ۹۸۶.