کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 47
ایسے لوگ آئیں گے جو موٹا ہونا پسند کریں گے (یعنی آرام طلب اور عیش پسند ہوں گے)۔‘‘ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((خَیْرُکُمْ قَرْنِی، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ)) [1] ’’تم میں سے بہترین میرا زمانہ ہے، پھر جو ان کے بعد آئیں گے، پھر جو ان کے بعد آئیں گے۔‘‘ ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ سب سے بہترین زمانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا، اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور اور اس کے بعد تابعین عظام رحمہم اللہ کا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ فضیلت و مرتبت اس لیے نصیب ہوئی کیونکہ انہوں نے اس دِین کی آبیاری کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دِیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے اخلاص کے بدولت اس قدر فائق ہیں کہ ہمارا عمل ان کے کسی ایک حصے تک بھی نہیں پہنچتا۔ جیسا کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَہَبًا مَا أَدْرَکَ مُدَّ أَحَدِہِمْ وَلَا نَصِیفَہٗ))[2] ’’اگر تم میں سے کوئی شخص اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے تو ان کے ایک مُد، بلکہ آدھے مُد (صدقے کے اجر وثواب) کو بھی نہیں پہنچ پائے گا۔‘‘ اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہٖ لَمَوقِفُ أَحَدِھِمْ سَاعَۃً مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم خَیرٌ مِنَ الدُّنیَا وَمَا فِیھَا۔[3] [1] صحیح البخاری: ۲۶۵۱. [2] صحیح البخاری: ۳۶۷۳۔ صحیح مسلم: ۲۵۴۰. [3] المحب الطبری: ۲۱۸.