کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 466
رہنے والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ ﴾’’جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید بھی (بہت کچھ ہے)۔‘‘ کی تفسیر میں فرمایا: ((إِذَا دَخَلَ أَہْلُ الجَنَّۃِ الجَنَّۃَ، نَادٰی مُنَادٍ: إِنَّ لَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ مَوْعِدًا یُرِیدُ أَنْ یُنْجِزَکُمُوہُ، قَالُوا: أَلَمْ یُبَیِّضْ وُجُوہَنَا وَیُنْجِنَا مِنَ النَّارِ وَیُدْخِلْنَا الجَنَّۃَ؟ قَالَ: فَیُکْشَفُ الحِجَابُ، فَوَاللّٰہِ مَا أَعْطَاہُمُ اللّٰہُ شَیْئًا أَحَبَّ إِلَیْہِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَیْہِ)) [1] ’’جب جنتی لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے تو ایک منادی یہ آواز لگائے گا کہ بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس تمہارے لیے ایک وعدہ ہے جسے وہ تمہارے لیے پورا کرنا چاہتا ہے۔ جنتی کہیں گے: کیا اس نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کر دیا اور ہمیں جہنم سے نجات سے کر جنت میں داخل نہیں کر دیا؟ (یعنی اس سے بڑھ کیا انعام ہو سکتا ہے؟) تو حجاب کو اُٹھا دیا جائے گا (اور سب کو دیدارِالٰہی عطا ہو گا)۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی کوئی چیز نہیں دی ہو گی جو ان کو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو گی۔‘‘ خشوع کے فضائل 1۔ ہدایت اور ثابت قدمی کا قرینہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَيُؤْمِنُوا بِهِ فَتُخْبِتَ لَهُ [1] سنن الترمذی: ۳۱۰۵۔ صحیح الجامع: ۵۳۵.