کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 455
’’احسان؛ اپنے دِل میں خوفِ الٰہی رکھنے اور اچھے انداز میں فرماں برداری بجا لانے کے اعتبار سے ایمان کا خلاصہ، اس کی رُوح اور اس کا کمال ہے۔‘‘ احسان کا مقام شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: جَعَلَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم الدِّینَ ثَلَاثَ دَرَجَاتٍ: أَعْلَاہَا الْإِحْسَانُ، وَأَوْسَطُہَا الْإِیمَانُ، وَیَلِیہِ الْإِسْلَامُ۔[1] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دِین کے تین درجات بنائے ہیں: ان میں سب سے بلند ترین درجہ احسان ہے، درمیان والا درجہ ایمان ہے اور اس کے بعد والا درجہ اسلام ہے۔‘‘ عبادات میں احسان کا اہتمام ٭…سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أوَّلُ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الصَّلَاۃُ، فَإِنْ صَلَحَتْ صَلَحَ لَہٗ سَائِرُ عَمَلِہٖ وَإِنْ فَسَدَتْ فَسَدَ سَائِرُ عَمَلِہٖ))[2] ’’روزِقیامت سب سے پہلے بندے سے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے، لہٰذا اگر یہ درست ہوئی تو اس کے سارے اعمال ہی درست ہوں گے اور اگر اسی میں بگاڑ ہوا تو اس کے سارے عمل ہی بگڑ جائیں گے۔‘‘ ٭…سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا قُمْتَ فِی صَلَاتِکَ فَصَلِّ صَلَاۃَ مُوَدِّعٍ)) [3] ’’جب تم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو تو اس طرح نماز پڑھو جیسے یہ آخری [1] مجموع الفتاوٰی: ۷-۷. [2] صحیح الجامع: ۲۵۷۳۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۳۵۸. [3] صحیح الجامع: ۷۴۲۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۴۰۱.