کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 454
تیسرا اصول احسان احسان کی تعریف: احسان کا مطلب ہے نیکی کرنا، کام کو اچھی طرح کرنا، اچھی طرح بنانا اور اچھی طرح جاننا۔ چنانچہ نیکی، اچھائی، عمدگی، خوبصورتی، آراستگی، خوش معاملگی، مہربانی، رافت، اتقان اور رحمت، ان سب کا نام ’’احسان‘‘ ہے۔ اصطلاحاً اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے ظاہر و باطن کو اچھا، نیک اور عمدہ بنانا۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب جبرائیل علیہ السلام نے سوال کیا کہ احسان کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہٗ یَرَاکَ)) [1] ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس انداز سے کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو یقینا وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘ احسان اور انعام میں فرق یہ ہے کہ احسان انسان کی اپنی ذات کے لیے بھی ہوتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی جبکہ انعام صرف دوسروں کے لیے ہی ہوتا ہے۔ احسان کی اہمیت امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اَلإِحْسَانُ لُبُّ الْإِیمَانِ وَرُوحُہٗ وَکَمَالُہٗ مِنْ حَیثُ الْمُرَاقَبَۃِ وَحُسْنِ الطَّاعَۃِ۔[2] [1] صحیح البخاری: ۴۷۷۷۔ صحیح مسلم: ۹۳. [2] مدارج السالکین: ۲-۴۲۹.