کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 453
فِی النَّاسِ أَلَا إِنَّہُ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا الْمُؤْمِنُوْنَ قَالَ فَخَرَجْتُ فَنَادَیْتُ أَلَّا إِنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا الْمُؤْمِنُوْنَ)) [1] ’’جب خیبر کا دن تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ایک گروہ آیا اور کہنے لگا: فلاں بھی شہید، فلاں بھی شہید۔ حتیٰ کہ ایک آدمی کے پاس سے گذرے اور کہنے لگے: فلاں بھی شہید۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر گز (یہ شہید) نہیں، یقینا میں نے اسے (جہنم کی) آگ میں دیکھا ہے، اس چادر یا چولے کی وجہ سے جو اس نے خیانت کی تھی۔ پھر فرمایا: اے ابن خطاب! جاؤ اور لوگوں میں آواز لگادو کہ جنت میں صرف مومنین ہی جا سکتے ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نکلا اور آواز لگائی: سنو! لوگو! جنت میں صرف مومن ہی جائیں گے۔‘‘ [1] صحیح مسلم: ۳۰۵.