کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 451
((اَلْمُؤْمِنُ غِرٌّ کَرِیْمٌ وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِیْمٌ)) [1] ’’مومن سادہ لوح اور معزز ہوتا ہے اور فاجر مکار کمینہ ہوتا ہے ۔‘‘ 6. مومن حریص نہیں ہوتا ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْمُؤْمِنُ یَشْرَبُ فِیْ مِعًی وَاحِدٍ وَالْکَافِرُ یَشْرَبُ فِیْ سَبْعَۃِ أَمْعَائَ)) [2] ’’مومن ایک انتڑی میں پیتا ہے جبکہ کافر سات انتڑیوں میں پیتا ہے۔‘‘ 7. مومن نرم مزاج اور سادہ ہوتا ہے: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْمُؤْمِنُوْنَ ہَیِّنُوْنَ لَیِّنُوْنَ کَالْجَمَلَ الْأَنَفِ، إِنْ قِیْدَ اِنْقَادَ، وَإِذَا أُنِیْخَ عَلٰی صَخْرَۃٍ اِسْتَنَاخَ)) [3] ’’مومن جو ہوتے ہیں بڑے ہی مبارک اور نرم خو ہوتے ہیں، نکیل شدہ اونٹ کی طرح جہاں اسے چلا دیا جائے چل پڑتا ہے اگر اسے چٹان پر بھی بیٹھا دیا جائے تو بیٹھ جاتاہے (یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے مکمل تابع ہوتا ہے)۔‘‘ 8. مومن غیرت مند ہوتا ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْمُؤْمِنُ یَغَارُ وَاللّٰہُ أَشَدُّ غَیْرًا)) [4] ’’مومن غیرت مند ہوتا ہے لیکن اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔‘‘ [1] صحیح الجامع:۶۶۵۲۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۹۳۵. [2] صحیح البخاری: ۵۳۹۳۔ صحیح مسلم: ۲۰۶۰. [3] صحیح الجامع: ۶۶۶۹۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۹۳۶. [4] صحیح الجامع:۶۶۶۴.