کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 450
4. مومن محب اور محبو ب ہوتا ہے: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْمُؤْمِنُ یَأْلَفُ وَیُؤلَفُ وَلاَخَیْرَ فِیْمَنْ لَا یَأْلَفُ وَلَا یُؤْلَفُ)) [1] ’’مومن محبت کرتا بھی ہے اور لوگ بھی اس سے مانوس ہوتے ہیں اس آدمی میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ محبت کرتا ہے اور نہ لوگ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی تَوَادِّہِمْ وَتَرَاحُمِہِمْ وَتَعَاطُفِہِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعٰی لَہٗ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّہَرِ وَالْحُمّٰی)) [2] ’’مومنوں کی آپس میں محبت ، رحم دِلی اور شفقت کی مثال ایک جسم کی مانند ہے اس کا ایک عضو تکلیف محسوس کرتاہے تو سارا جسم بخار اور بے چینی کے ساتھ بے تاب ہوجاتاہے۔‘‘ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ))[3] ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے (مسلمان) بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ 5. مومن مکار او رکمینہ نہیں ہوتا : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح الجامع: ۶۶۶۱، سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۴۲۶. [2] صحیح البخاری: ۶۰۱۱۔ صحیح مسلم: ۶۵۲۹. [3] صحیح البخاری: ۱۳۔ صحیح مسلم: ۱۶۸.