کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 449
وَبِمُحَمَّدٍرَسُوْلًا)) [1] ’’اس آدمی نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا جو اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر، اسلام کے دِین ہونے پر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا۔‘‘ اسی طرح سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((طُوْبٰی لِمَنْ آمَنَ بِیْ وَرَآنِیْ، وَطُوْبٰی لِمَنْ آمَنَ بِیْ وَلَمْ یَرَنِیْ سَبْعَ مَرَّاتٍ)) [2] ’’اس آدمی کے لیے (ایک مرتبہ) جنت کی بشارت ہے جو مجھ پر ایمان لایا اور اس نے مجھے دیکھا، اور اس آدمی کے لیے سات مرتبہ جنت کی بشارت ہے جو مجھ پر ایمان لایا حالانکہ اس نے مجھے دیکھا بھی نہیں۔‘‘ 3. مومن صابر ہوتا ہے: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْمُؤْمِنُ الَّذِیْ یُخَالِطُ النَّاسَ وَیَصْبِرُ عَلٰی أَذَاہُمْ أَفْضَلُ مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِیْ لَا یُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا یَصْبِرُ عَلٰی أَذَاہُمْ)) [3] ’’جو مومن لوگوں میں گھل مل کر رہتا ہے اور لوگوں کی تکالیف پر صبر کرتا ہے یہ اس مومن سے بہتر ہوتا ہے جولوگوں سے مل جل کرنہیں رہتا اور ان کی تکالیف پر صبر نہیں کرتا۔‘‘ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْإِیْمَانُ الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَۃُ)) [4] ’’ایمان؛ صبر اور فراخ دِلی کا نام ہے۔‘‘ [1] صحیح مسلم: ۱۵۱. [2] مسند أحمد: ۲۲۱۳۸. [3] صحیح الجامع:۶۶۵۱۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۹۳۹. [4] صحیح الجامع: ۲۷۹۵۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۵۵۴.