کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 448
وَکَذَا، وَلٰکِنْ قُلْ قَدَّرَ اللّٰہِ وَمَا شَائَ فَعَلَ، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ)) [1] ’’قوی مومن اللہ تعالیٰ کو کمزور مومن سے زیادہ بہتر اور محبوب لگتا ہے، لیکن بھلائی ہرایک میں ہے۔ تیرے لیے جو چیز فائدہ مند ہو؛ اس کا تُو حریص بن جا، اللہ کی مدد طلب کر اور عاجزی نہ دکھا، اگر تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو یہ مت کہہ کہ اگر میں یوں یوں کر لیتا تو ایسے ایسے ہوجاتا، لیکن یہ کہہ کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے چاہا مقدر کردیا کیونکہ ’’اگر‘‘ کہنا شیطان کے عمل کھولتا ہے۔‘‘ 2. مومن اللہ اوراس کے رسول سے محبت کرتا ہے: سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثَلاَثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ بِہِنَّ حَلاَوَۃَ الْإِیْمَانِ: أَنْ یَکُوْنَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا سِوَاہُمَا وَأَنْ یُحِبَّ الْمَرْئَ لاَ یُحِبُّہٗ إِلاَّ لِلّٰہِ وَأَنْ یَکْرَہَ أَنْ یَعُوْدَ فِیْ الْکُفْرِ کَمَا یَکْرَہُ أَنْ یُقْذَفَ فِیْ النَّارِ)) [2] ’’جس میں تین چیزیں پائی گئیں وہ ان کے سبب ایمان کی مٹھاس کو محسوس کرلے گا: (۱) یہ کہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہو جائیں۔ (۲)یہ کہ اگر کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے۔ (۳)اور دوبارہ کفرمیں جانے کو ایسے ہی ناپسند کرے جس طرح آگ میں جانے کو ناپسند کرتا ہے۔‘‘ اورسیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ذَاقَ طَعَمَ الْإِیْمَان مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِیْنًا [1] صحیح مسلم: ۲۶۶۴. [2] صحیح البخاری: ۱۶۔ صحیح مسلم: ۱۶۳.