کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 443
14. کفر کے تسلط سے بچاؤ: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَلَنْ يَجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا ﴾ [النساء: ۱۴۱] ’’اللہ تعالیٰ کافروں کو مومنوں پر غلبہ حاصل کرنے کا ہرگز رستہ نہیں دیں گے۔‘‘ 15. زمین پر حکمرانی کا ذریعہ: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴾ [النور: ۵۵] ’’اللہ تعالیٰ کا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ ہے جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے ، ان کو زمین میں ضرور خلیفہ بنائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگوں کوخلیفہ بنایا تھا اور جس دین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے پسند کیا اس کے ساتھ ان کوضرور تقویت دیں گے اور ان کے خوف کو امن سے ضرور بدلیں گے، (بس وہ میری ہی عبادت کریں میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں جو بھی ہدایت کے بعد انکار کریں گے وہی فاسق ہوں گے۔‘‘ 16. اللہ کی طرف سے خوشخبری کا باعث: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ [البقرۃ: ۲۲۳] ’’(اے نبی!) مومنین کو خوشخبری دے دیجیے ۔‘‘ اسی طرح فرمایا: