کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 440
لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّائُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّائُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ))[1] ’’مومن کا معاملہ بڑا ہی عجیب ہے اس کے ہر ایک معاملہ میں بھلائی ہے اور یہ بندہ مومن کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ۔ اگر اسے کوئی خوشی ملتی ہے اور یہ شکر کرتاہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے اگر اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور یہ صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔‘‘ 7. انسانی مسرتوں اور راحتوں کا سبب: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ﴾ [التوبۃ: ۱۲۴] ’’اور جب بھی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو (منافق) کہتے ہیں اس آیت نے کس کے ایمان میں اضافہ کیاہے؟ لیکن جو ایماندار ہیں ان کے ایمانوں میں واقعی اضافہ ہو جاتاہے اور وہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔‘‘ 8. شک سے بچنے کا ذریعہ: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللّٰهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا ﴾ [الحجرات: ۱۵] ’’مومن وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور شکوک وشبہات کا شکار نہیں ہوئے۔‘‘ 9. امن اور ہدایت کا پیغام: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: [1] صحیح مسلم:۷۴۲۵.