کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 437
دوسرا اصول: ایمان ایمان کا لغوی معنی: ایمان کا لفظ ’’اٰمَنَ یُوْمِنُ إِیْمَانًا‘‘ سے ہے جس کا مطلب ہے: اللہ کی وحی پر دل وجان سے ایمان لانا، بھروسہ کرنا، تصدیق کرنا، مطیع و فرمانبردار ہونا اور سکون و اطمینان حاصل کرنا۔ چنانچہ ایمان کامطلب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے پیغامات پر دل وجان سے اعتماداور بھروسہ کرے اور اپنے آپ کو احکام شریعت کا پابند اور مطیع فرمانبردار بنائے اوراحکام شریعت کی اپنے عمل سے تصدیق کرتے ہوئے اطمینان ویقین کر لے کہ دنیا وآخرت میں سکون کا مرکز یہی ہے۔ ایمان کا اصطلاحی معنی: 1. علامہ عبدالرحمن السعدی فرماتے ہیں کہ: ہُوَ التَّصْدِیْقُ الْجَازِمُ وَالْاِعْتِرَافُ التَّامُّ بِجَمِیْعِ مَا أَمَرَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ بِالْإِیْمَانِ بِہٖ وَالْاِنْقِیَادِ ظَاہِرًا وَبَاطِنًا۔[1] ’’اللہ اور اس کے رسول کے جمیع احکامات کا ظاہر ی وباطنی طور پر مکمل اعتراف ویقین کرنا ،اور اس کی پختہ تصدیق کرنا ایمان ہے۔ 2. بعض اہلِ علم ایمان کی تعریف کچھ یوں بیان کرتے ہیں: اَلْإِیمَانُ لَہٗ خَمْسَۃُ أَرْکَانٍ: اِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وَ تَصْدِیْقٌ بِالْجِنَانِ وَعَمَلٌ بِالْأَرْکَانِ یَزِیْدُ بِطَاعَۃِ الرَّحْمٰنِ وَیَنْقُصُ بِطَاعَۃِ أَبِی مُرَّۃِ [1] کتاب الإیمان لابن مندہ:۱/۳۴۱۔ مجموع الفتاوی: ۷/۵۰۵.