کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 436
نماز کا ثوا ب ایک ہزار نماز کے برابر ہے، لہٰذا اس غنیمت کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ عموماً حاجیوں کو غلط تا ثر دیاجا تاہے کہ چالیس نمازیں اگر نہ پڑھیں تو تمام حج ناقص ہے، یہ ضرور پڑھنی ہیں ۔ یہ بالکل غلط ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ آپ کا حج ختم ہوچکا ہے، ان نمازوں کا اور زیارت مدینہ کا حج کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ دوسری بات جو حدیث لوگ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو شخص اس مسجد میں چالیس نمازیں پڑھے تو اسے عذاب سے نجات ملے گی اور وہ نفاق سے بری ہو گا۔ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں بلکہ یہ منکر حدیث ہے اور ضعیف ہے، کیونکہ اس کو روایت کرنیوالا شخص نبیط بن عمر ہے جس سے صحاح ستہ کی کتب میں ایک بھی روایت مروی نہیں ہے، یعنی امام بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ رحمہم اللہ نے اس سے ایک بھی روایت بیان نہیں کی۔[1] اس لیے یہ چالیس نمازوں کا ثبوت نہیں، حقیقت میں جو صحیح حدیث ہے وہ یوں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((مَنْ صَلّٰی لِلّٰہِ أَربَعِینَ یَوماً فِی جَمَاعَہٍ یُدْرِکُ التَّکْبِیرَۃَ الأُولٰی، کُتِبَتْ لَہٗ بَرَائَ تَانِ، بَرَائَ ۃٌ مِنَ النَّارِ وَبَرَائَ ۃٌ مِنَ النِّفَاقِ)) [2] ’’جوشخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے چالیس روز تکبیرِاُولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھے اس کے لیے دوبرأتیں لکھ دی جاتی ہیں: (ایک)جہنم کی آگ سے برأت اور (دوسری) نفاق سے برأت۔‘‘ [1] سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ: ۳۶۴. [2] سنن الترمذی: ۲۴۱.