کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 435
’’جو شخص صبح کے وقت دس مرتبہ اور شام کے وقت دس مرتبہ مجھ پر درود پڑھے تو روز قیامت اسے میری شفاعت نصیب ہو گی۔‘‘ واضح رہے کہ درود کے مسنون الفاظ یہ ہیں: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاہِیمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔[1] ’’اے اللہ!محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )اورآلِ محمدپررحمتیں نازل فرما، جس طرح تونے ابراہیم( علیہ السلام ) اورآلِ ابراہیم پراپنی رحمتیں نازل فرمائی ہیں، یقیناتوہی قابلِ تعریف اورلائقِ تمجیدہے۔ اے اللہ!محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )اورآلِ محمدپربرکات نازل فرما، جس طرح تونے ابراہیم( علیہ السلام )اورآلِ ابراہیم پراپنی برکات نازل فرمائی ہیں، یقینا توہی ستائش وبزرگی کا کے لائق ہے۔‘‘ پھر جب آپ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر جائیں تو وہاں بھی درود پڑھیں اور سلام کریں۔ قبرمبارک کی طرف منہ کر کے اِن ا لفاظ کے ساتھ سلام بھیجیں: اَلسَّلَامُ عَلَیکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔ لیکن یہاں رُکنانہیں ہے اور نہ ہی قبر کی طرف منہ کر کے دعائیں کرنی ہیں۔ دعاؤں کے لیے قبلہ ہی کی طرف رُخ کر نا ہے ۔ پھر ایک قدم آگے بڑھ کر جناب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سلام بھیجیں اور آگے چلتے جائیں۔ یہ زیارت کا شرعی طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ جالیوں کو چومنا، ہاتھ لگانا، چکر کاٹنا وغیرہ بدعت ہے۔ آپ جتنے دن مدینہ میں رہیں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نمازیں پڑھیں،کیونکہ وہاں ایک [1] صحیح البخاری: ۳۳۷۰.