کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 434
ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے)۔‘‘ اس لیے مسجد نبوی میں زیادہ سے زیادہ نمازیں ادا کریں اور اگر ہو سکے تو روضۃ من ریاض الجنۃ میں اداکریں۔ جناب عبداللہ بن زید المازنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا بَیْنَ بَیْتِی وَمِنْبَرِی رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الجَنَّۃِ)) [1] ’’ میرے گھر اورمنبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔‘‘ اس مقدس جگہ پر بیٹھ کر قرآ ن کی تلاوت کریں، دُعائیں کریں، ذکر واذکار کریں لیکن اگر اس جگہ میں ممکن نہ ہو تو پھر کسی بھی جگہ بیٹھ کر عبادات کریں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھیں۔ درود کی فضیلت کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ: ((مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ صَلَاۃً وَاحِدَۃً صَلَّی اللّٰه عَلَیْہِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ، وَحُطَّتْ عَنْہُ عَشْرُ خَطِیئَاتٍ، وَرُفِعَتْ لَہٗ عَشْرُ دَرَجَاتٍ))۔ [2] ’’جو شخص مجھ پرایک مرتبہ درودبھیجے اللہ تعالیٰ اس پردس رحمتیں نازل فرماتا ہے، اس کے دس گناہ معاف کردیے جاتے ہیں اوراس کے دس درجات بلندکیے جاتے ہیں۔‘‘ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ حِیْنَ یُصْبِحُ عَشْراً، وَحِیْنَ یُمْسِی عَشْراً، أَدْرَکَتْہُ شَفَاعَتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) [3] [1] صحیح البخاری: ۱۱۹۵۔ صحیح مسلم: ۱۳۹۰. [2] سنن النسائی: ۱۷۹۷. [3] صحیح الجامع الصغیر: ۶۳۶۷.