کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 433
پر سلامتی ہو۔ اے اللہ! بے شک میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔‘‘ الحمدللہ! آپ کا حج مکمل ہو گیا ہے، حج کا کوئی عمل باقی نہیں رہا۔ لیکن اگر آپ مدینہ طیبہ جاناچاہتے ہیں تو ضرور جائیں۔ البتہ یاد رکھیں کہ حج کے احکام میں اس کا کوئی دخل نہیں، اس کا الگ اجروثواب ہے، کیونکہ آپ مسجد نبوی میں نمازیں پڑھیں گے۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل چیزوں کو مدِنظررکھنا ضروری ہے ۔ زیارتِ مسجد نبوی مسجد نبوی کی زیارت کر نا سنت ہے۔ دنیا میں صرف تین ایسی بابرکت جگہیں ہیں جن کی طرف سفر کرنا مشروع ہے ( یعنی باعث ِثواب ہے) وہ یہ ہیں: (۱) بیت اللہ (۲) مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (۳) بیت المقدس جناب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلٰی ثَلاَثَۃِ مَسَاجِدَ: المَسْجِدِ الحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صلي اللّٰه عليه وسلم ، وَمَسْجِدِ الأَقْصٰی)) [1] ’’ صرف تین مساجد کی طرف (ثواب کی نیت سے) رخت ِسفر باندھا جا سکتا ہے: مسجد الحرام ( بیت اللہ ) کی طرف، مسجد نبوی کی طرف، مسجد اقصیٰ کی طرف۔‘‘ جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((صَلاَۃٌ فِی مَسْجِدِی ہٰذَا خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلاَۃٍ فِیمَا سِوَاہُ، إِلَّا المَسْجِدَ الحَرَامَ)) [2] ’’میری اس مسجد میں نماز پڑھنا دیگر مساجد میں پڑھی جانے والی ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے، سوائے مسجدحرام کے (کیونکہ بیت اللہ میں نماز پڑھنا [1] صحیح البخاری: ۱۱۸۹۔ صحیح مسلم: ۵۱۱. [2] صحیح البخاری: ۱۱۹۰۔ صحیح مسلم: ۱۳۹۴.