کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 432
تیرہ ذوالحجہ کا دن اس دن اسی طرح آپ نے کنکریاں مارنی ہیں جس طرح گیارہ اور بارہ کو ماریں اور اس کے بعد مکہ جا نا ہے۔ واضح رہے کہ ان ایام میں اگر نماز مسجد خیف میں پڑھیں تو زیادہ بہتر ہے، لیکن اگر کہیں بھی پڑھ لیں تو ٹھیک ہے۔ نماز میں کو تاہی کرنا یا نہ پڑھنا اس کا بہت گناہ ہے، اس سے حج کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ مکہ پہنچ کر آپ نے اپنے وطن کوواپس لوٹتے وقت طوافِ وداع کر نا ہے جو صرف سات چکر ہو ں گے لیکن اگر کسی کا طواف ِحج باقی ہے (جس کو طواف ِزیارت اور طواف ِافا ضہ کہتے ہیں) تو پھر وہ طوافِ وداع کے ساتھ ہی اس کی نیت کر کے سات چکر نکالے گا، اس کا طواف ِحج بھی ہو گیا اور وِداع بھی ہوجائے گا، اس کو چھوڑنے سے دَم دینا پڑے گا ۔ جناب ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: أُمِرَ النَّاسُ أَنْ یَکُونَ آخِرُ عَہْدِہِمْ بِالْبَیْتِ إِلَّا أَنَّہٗ خُفِّفَ عَنِ الْمَرْأَۃِ الْحَائِضِ۔[1] ’’لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کا آخری کام بیت اللہ کا (طواف) ہو، البتہ حائضہ عورت کو اس کی رخصت دی گئی۔‘‘ واضح رہے کہ طواف کے بعد پچھلے قدموں باہر آنا قطعاً جائز نہیں، یہ بدعت ہے کیونکہ یہ عمل نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اور نہ ہی سلف صالحین سے۔ بیت اللہ سے باہر نکلتے وقت پہلے بایاں پاؤں باہر رکھیں اور یہ دُعا پڑھیں: بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔[2] ’’اللہ کے نام کے ساتھ (باہر آتا ہوں) اور (دعا کرتا ہوں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [1] صحیح البخاری: ۱۷۵۵۔ صحیح مسلم: ۱۳۲۸. [2] صحیح مسلم: ۷۱۳.