کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 430
الَّتِی لَا تُنْقِی)) [1] ’’قربانی میں چار طرح کے جانور جائز نہیں: وہ کانا جانور جس کا کانا پن واضح ہو، وہ بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو، وہ لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن واضح ہو اور ایسا دُبلا جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔‘‘ (۴) اس دن (دس تاریخ) کے چار کاموں میں سے کوئی دو کام کرلینے سے حاجی پر احرام کی پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں ۔صرف حاجی اپنی بیوی سے ہم بستری نہیں کرسکتا اس کو التحلل الأول کہتے ہیں۔ لیکن جب حاجی طواف ِزیارت (طوافِ افاضہ)کرلے تو پھر بیوی سے ہم بستری بھی کرسکتاہے، کیونکہ اب اسے التحلل الأکبر حاصل ہوگیا ہے ، یعنی وہ بالکل حلال ہوگیا ہے، کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ نوٹ:… اگر دس تاریخ کو قربانی نہیں کرسکا تو جائز ہے کہ وہ گیارہ، بارہ اور تیرہ میں سے کسی ایک دن قربانی کرلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((کُلُّ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ ذَبْحٌ)) [2] ’’ ایام تشریق سارے ہی قربانی کے لیے ہیں۔‘‘ گیارہ ذوالحجہ کا دن گیارہ ذوالحجہ کی رات منیٰ میں جاکر گزارنی ہے یعنی دس تاریخ کو طواف وغیرہ سے فارغ ہوکر واپس منیٰ جانا ہے اور گیارہ تاریخ کے دن زوال کے بعد تینوں جمرات کو اس طرح کنکریاں مارنی ہیں کہ سب سے پہلے چھوٹے جمرے سے شروع کریں جو مسجدخیف کے قریب ہے۔ (جس مسجد کی فضیلت یہ ہے کہ اس میں70انبیاء نے نماز پڑھی ہے)۔ [3] [1] سنن ابن ماجہ: ۳۱۴۴۔ سنن الترمذی: ۱۴۹۷۔ سنن النسائی: ۴۳۸۱۔ سنن أبی داود: ۲۸۰۲. [2] سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲۴۷۶۔ صحیح الجامع: ۴۵۳۷. [3] مناسک الحج والعمرۃ، ص: ۳۹ نقلاً عن الطبرانی.