کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 427
((رَحِمَ اللّٰہُ الْمُحَلِّقِینَ)) ’’اللہ تعالیٰ سرمنڈوانے والوں پررحم فرمائے۔‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اوربال چھوٹے کرانے والوں پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((رَحِمَ اللّٰہُ الْمُحَلِّقِینَ)) ’’اللہ تعالیٰ سرمنڈوانے والوں پررحم فرمائے۔‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے (پھر)عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بال چھوٹے کرانے والوں پر؟ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَالْمُقَصِّرِینَ))۔ [1] ’’بال چھوٹے کرانے والوں پربھی (اللہ رحم فرمائے)۔‘‘ بعض لوگ معمولی سے بال کٹوالیتے ہیں، آگے سے یا پیچھے سے، پورے سر کے نہیں کٹواتے، اس کو قزع کہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔[2] بہترہے کہ سر کے سارے بالوں کوکٹوائیں یا منڈوائیں۔ (4)… طواف ِزیارت (جس کو طوافِ افاضہ بھی کہتے ہیں) کرنا ہے اور حج ِتمتع والے کو سعی بھی، حج ِقران والے اور حجِ اِفراد والے نے اگر پہلے سعی کی ہے تو آج نہیں کرنی لیکن اگر پہلے نہیں کی تو وہ بھی آج سعی کرے گا (یاد رہے کہ مکہ کا رہائشی حاجی جو ہے وہ قربانی سے مستثنیٰ ہے) اور طوافِ زیارت اگر میسر نہیں آسکا تو اس کو مؤخر بھی کیا جاسکتاہے اور طواف وِداع کے ساتھ کرلیا جائے۔ یہ اس لیے کہ بھیڑ اور اژدہام کی وجہ سے بسا اوقات انسان متأخر ہو جاتا ہے۔مذکورہ چار کام اسی ترتیب سے کرنے ہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ہی کیا۔ لیکن اگر ان چاروں کاموں میں تقدیم و تاخیر ہوجائے تو اس پر کوئی دم (فدیہ) نہیں۔ جیسا [1] صحیح البخاری: ۱۷۲۷۔ صحیح مسلم: ۱۳۰۱. [2] صحیح البخاری: ۵۹۲۰.