کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 425
نوٹ:… عرفات کے دن حاجی روزہ نہیں رکھ سکتا۔[1] ٭… اس کے بعد جونہی سورج غروب ہو، آپ نے مزدلفہ کی طرف جانا ہے اور وہاں پہنچ کر مغرب و عشاء کی نماز جمع کرکے (عشاء کے وقت) تین مغرب کی اور دو عشاء کی رکعتیں پڑھنی ہیں۔[2] ٭… یہاں بھی عرفات کی طرح ایک اذان اور دو تکبیروں کے ساتھ (یعنی ہر نماز کی تکبیر الگ ہوگی) پڑھیں اور وِتر پڑھ کر سوجائیں اور باتوں میں وقت ضائع نہ کریں۔ اس وقت میں ذِکر بھی نہیں کرنا تو باتیں کہاں جائز ہوں گی؟ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوراً سوگئے تھے۔ ٭… ساری رات مزدلفہ میں گزار کر صبح کی نماز بھی مزدلفہ میں ادا کریں اور پھر خوب ذکر و اذکار اور دعا کیجئے۔ یاد رہے کہ مشعرِ حرام کے نزدیک ٹھہرنا مستحب ہے اور فجر کے بعد خوب سفیدی ہوجائے تو پھر منیٰ جانا ہے لیکن عورتیں بچے اور کمزور و عمر رسیدہ اشخاص رات کو چاند کے غروب ہوجانے کے بعد مزدلفہ سے منیٰ کو جاسکتے ہیں کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اندھیرے میں ہی منیٰ آگئیں اور کہنے لگیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی ایسا کرتی تھیں، یعنی رات کو ہی منیٰ آجاتیں۔[3] اور جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے اہل اور بچوں کو مزدلفہ سے رات کو ہی لے کر چلتے اور صبح کی نماز منیٰ پڑھتے اور لوگوں کے آنے سے پہلے کنکریاں مارلیتے۔[4] ٭… اگر باآسانی راستے میں سات کنکریاں مل جائیں تو اُٹھا لیں۔ کنکریاں نہ زیادہ موٹی ہوں اور نہ ہی چھوٹی ہوں، بلکہ فوق الحمص یعنی چنے کے دانے سے کچھ بڑی ہو۔[5] لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ صبح کی نماز سے پہلے کنکریاں لینا ہے اور یہ شریعت ہے۔ یہ غلط بات ہے اور اس کی کوئی دلیل نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مشعر الحرام سے منیٰ کو [1] صحیح البخاری: ۱۶۶۱. [2] صحیح البخاری: ۱۶۷۲. [3] صحیح البخاری: ۱۶۷۹. [4] صحیح البخاری: ۱۶۷۶. [5] مناسک الحج و العمرۃ، ص: ۳۱.