کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 418
سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس نے (مخالف) گروہوں کو اکیلے ہی شکست دی۔‘‘ ان تین مرتبہ دعاؤں کے درمیان میں اور بھی جو چاہیں دعائیں کریں، پھر صفا سے اُتریں اور مروہ کی طرف چلیں اور سکون سے جو جی چاہے دعائیں کریں لیکن اگر یہ دعا پڑھ لیں تو یہ سُنت سے ثابت ہے: رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ اِنَّکَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَکْرَمُ۔[1] ’’اے میرے رب! (مجھ کو) بخش دے اور (مجھ پر) رحم فرما، بے شک تو ہی سب سے بڑھ کر عزت و اکرام والا ہے۔‘‘ نوٹ:… جہاں دو سبز بتیاں لگی ہیں وہاں سے بھاگ کر گزریں اور مروہ پر چڑھتے ہوئے وہی دعائیں پڑھیں جو صفا پر پڑھی تھیں لیکن اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ والی آیت نہ پڑھیں، کیونکہ یہ صرف سعی کی ابتداء میں ہی پڑھنی ہے۔[2] یہاں ایک چکر پورا ہوگیا۔ اس کے بعد صفا کو چلیں اور اسی طرح کریں جس طرح پہلے کیا تھا، پھر مروہ کی طرف آئیں، حتیٰ کہ سات چکر پورے کریں۔ مروہ پر سات چکر ختم ہوں گے۔ نوٹ: … یاد رکھیں! طواف میں کندھا ننگا کرنا، رمل کرنا اور صفا مروہ کے درمیان بھاگنا عورتوں کے لیے نہیں ہے، اس لیے کہ اس سے مقصود قوت کا اظہار ہے اور عورتوں میں پردہ ضروری ہے۔ رمل اور کندھے ننگے کرنے میں یقینا پردہ نہیں رہتا۔[3] اگرچہ بعض علماء نے کہا ہے کہ صفا و مروہ میں جب اکیلی عورت ہو تو بھاگ سکتی ہے جیسا کہ حضرت حاجرہ علیہاالسلام بھاگی تھیں۔ [1] مصنف ابن أبی شیبہ: ۴/۶۸۔ السنن الکبرٰی للبیہقی: ۵/۹۵۔ یہ روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوفاً صحیح منقول ہے. [2] فقہ العبادات، ص: ۳۶۱. [3] المغنی لابن قدامۃ: ۳/۳۹۴.