کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 417
٭…پھر آبِ زم زم کی طرف آئیں، اس کو پئیں اور اپنے سر پر بھی ڈالیں۔ پھر یہ کام کرکے اگر ممکن ہو سکے تو حجرِ اسود کا بوسہ لیں۔[1] ٭…اس کے بعد صفا و مروہ کی طرف جائیں۔ نوٹ:… بعض لوگ اپنے گھر سے ہی کندھا ننگا کرلیتے ہیں اور سارا حج اسے ننگا ہی رکھتے ہیں، حالانکہ یہ مسنون عمل نہیں۔ سعی کا بیان صفاکے قریب جا کریہ پڑھیں: اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ، أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللّٰہُ بِہٖ۔[2] ’’بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، میں وہیں سے شروع کرتا ہوں جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا۔‘‘ اس کے بعد صفا پر چڑھ جائیں، حتیٰ کہ آپ کو کعبہ دِکھائی دینے لگے۔[3] چونکہ آج کل ستون ہیں، اس لیے صفا سے دیکھنے میں دِقت ہوتی ہے، لیکن دیکھنے کی کوشش کریں، اگر نظر آجائے تو بہتر ہے ورنہ کوئی حرج نہیں۔ پھر کعبہ کی طرف منہ کرکے تین مرتبہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہیں اور تین مرتبہ یہ دعا پڑھیں: لَا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیْتُ وَھُوْ عَلٰی کُلِّ شَیٍٔ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ أَنْجَزَ وَعَدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ اْلأَحْزَابَ وَحْدَہٗ۔[4] ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ کے [1] سنن أبی داود: ۱۹۰۲. [2] صحیح مسلم: ۱۲۱۸. [3] سنن أبی داود: ۱۹۰۵. [4] صحیح مسلم: ۱۲۱۸.