کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 415
(یعنی طواف میں) تم بات چیت کر لیتے ہو، البتہ جو شخص گفتگو کرے وہ بھلائی کی ہی بات کرے۔‘‘ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: أَنَّہٗ أَوَّلُ شَیْئٍ بَدَأَ بِہٖ حِینَ قَدِمَ أَنَّہٗ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَیْتِ۔[1] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب (مکہ) تشریف لائے تو سب سے پہلا کام وضو کیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔‘‘ ٭…پھرپہلے تین چکروں میں رمل کریں، یعنی آہستہ آہستہ پہلوانوں کی طرح چلیں اور باقی چار چکروں میں رمل نہیں کرنا بلکہ آرام سے چلنا ہے، جیسا کہ عام چلتے ہیں۔ سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم لَمَّا قَدِمَ مَکَّۃَ أَتَی الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَہٗ، ثُمَّ مَشٰی عَلٰی یَمِینِہٖ، فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشٰی أَرْبَعًا۔[2] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے تو حجراسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دیا، پھر (طواف کے لیے) اپنی دائیں جانب چل پڑے، پھر تین چکر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے تیزی سے اور چار چکر عام رفتار سے لگائے۔‘‘ ٭…ان سات چکروں میں جو مرضی دعا پڑھیں لیکن رکن ِایمانی اور حجرِ اسود کے درمیان یہ دعا پڑھیں: رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِیْ الآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۔[3] ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘ [1] صحیح البخاری: ۱۶۴۱. [2] صحیح مسلم: ۱۲۱۸. [3] سنن أبی داود: ۱۸۸۹.