کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 414
طواف کا طریقہ ٭…طواف سے پہلے اضطباع کریں، یعنی اوپر والی چادر کو دائیں کندھے کے نیچے سے نکال کردوسرے کندھے پرڈال لیں،کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔[1] ٭…حجرِ اسود کی طرف جائیں اور اس کا بوسہ لیں، لیکن اگر بوسہ لینا ممکن نہ ہو توہاتھ لگالیں۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر اللّٰہ أکبر کہہ کر ہاتھ سے اشارہ کریں (لیکن اشارہ کرکے ہاتھ کو چومنا نہیں ) اور یہ کام ہر چکر میں کریں اور رَش نہ لگائیں اور نہ ہی کسی کو تکلیف دیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: إِنَّکَ رَجُلٌ قَوِیٌّ فَلَا تُؤْذِ الضَّعِیفَ وَاِذَا أَرَدتَّ اسْتِلَامَ الْحَجَرِ فَاِنْ خَلَا لَکَ فَاسْتَلِمْہُ وَإِلَّا فَاسْتَقْبِلْہُ وَکَبِّرْ۔[2] ’’اے عمر! تم قوی آدمی ہو، لہٰذا کمزور کو تکلیف نہ دینا اور جب تم حجراسود کا استلام کرنا چاہو تو اگر وہ تمہارے لیے خالی ہو توبوسہ لے لو، ورنہ اس کے سامنے آکر تکبیر کہو اور گزر جاؤ۔‘‘ ٭…آپ کاطواف ِقدوم شروع ہوگیا۔ یاد رکھیں کہ اس میں طہارت ضروری ہے کیونکہ یہ اور نماز ایک جیسی چیز ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نماز میں کلام جائز نہیں اس میں جائز ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ: ((اَلطَّوَافُ حَوْلَ البَیْتِ مِثْلُ الصَّلَاۃِ، إِلَّا أَنَّکُمْ تَتَکَلَّمُونَ فِیہِ، فَمَنْ تَکَلَّمَ فِیہِ فَلَا یَتَکَلَّمَنَّ إِلَّا بِخَیْرٍ)) [3] ’’بیت اللہ کے گرد طواف کرنا نماز ہی کے مثل ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس میں [1] سنن الترمذی: ۸۵۹۔ سنن أبی داود: ۱۸۸۰. [2] مسند أحمد: ۱۹۔ عون المعبود: ۵/۲۳۵. [3] سنن الترمذی: ۹۶۰۔ صحیح الجامع: ۳۹۵۵.