کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 412
’’اے اللہ! جہاں تو نے مجھے روک دیا میں وہیں احرام کھول دوں گا۔‘‘ اس کے بعد اگر واقعتا مکہ نہ پہنچ سکے تو پھر راستے میں ہی احرام کھول دے اور اس پر کوئی دَم (فدیہ و کفارہ) وغیرہ نہیں ہو گا۔ تلبیہ کا بیان پھر تلبیہ پڑھنا شروع کریں، جس کے الفاظ یہ ہیں: لَبَّیْکَ اللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالمُلْکَ لَا شَرِیکَ لَکَ۔[1] ’’میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، یقینا تمام تعریفات، نعمتیں اور بادشاہت تیرے ہی لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔‘‘ پھر اسی کو پڑھتے رہیں اور بلند آواز کے ساتھ پڑھیں، کیونکہ یہ نبوی حکم ہے، جیسا کہ جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کون سا حج افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلعَجُّ وَالثَّجُّ))۔ [2] ’’آواز بلند کرنا اور خون بہانا۔‘‘ آواز بلند کرنے سے مراد ہے بلند آواز میں تلبیہ پکارنا اور خون بہانے سے مراد ہے قربانی کرنا۔ حتیٰ کہ عورتوں کو بھی اونچی آواز میں تلبیہ پڑھنا چاہیے، لیکن شرط یہ ہے کہ فتنے کا ڈر نہ ہو، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اونچی آواز سے تلبیہ کہتی تھیں، حتیٰ کہ آدمی سنتے تھے۔[3] [1] صحیح البخاری: ۱۵۴۹۔ صحیح مسلم: ۲۸۰۳. [2] سنن الترمذی: ۸۲۷۔ سنن ابن ماجہ: ۲۹۲۴. [3] صحیح البخاری: ۱۵۵۰.