کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 411
عمرہ کے ارکان ۱: احرام باندھتے وقت دل سے نیت کرنا لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ عُمْرَۃً کہنا،اورتلبیہ پڑھنا۔ ۲: بیت اللہ کا طواف کرنا۔ ۳: صفاو مروہ کی سعی کرنا۔ عمرہ کے واجبات ۱: میقات سے احرام باندھنا۔ ۲: بال کٹوانا یا سر منڈوانا اور یہ افضل ہے۔ واضح رہے کہ رکن اگر چھوٹ جائے تو عمرہ و حج باطل ہوجاتا ہے۔ خواہ بھول کر ہو اور اگر واجب چھوٹ جائے تو دم دینا پڑے گا جو حرم کی حدود میں ذبح کرکے فقراء میں تقسیم کیا جائے گا۔ نیت کا بیان جو شخص حجِ افراد کی نیت کرے گا تو وہ میقات سے سواری پر بیٹھ کر قبلہ کی طرف منہ کرکے نیت کرنے کے بعد تلبیہ کے یہ لفظ کہے گا: لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ حَجَّۃً یا لَبَّیْکَ حَجْاً اور جو شخص حج تمتع کا ارادہ رکھتا ہے وہ تلبیہ یوں کہے گا: لَبَّیْکَ أللّٰھُمَّ بِعُمْرَۃٍ وَ حَجَّۃٍ یا پھر لَبَّیْکَ حَجْاً وَ عُمْرَۃً اگر حرم تک پہنچنے میں کسی قسم کی رکاوٹ کا شبہ ہو کہ شاید وہ حج کے احکام کو نہ پورا کرسکے گا بلکہ راستے میں کوئی مسئلہ بن سکتا ہے تو پھر اسے نیت کرتے وقت یہ کہنا چاہیے: أَللّٰھُمَّ إنْ حَبَسَنِیْ حَابِسٌ فَمَحِلِّی حَیْثُ حَبَسْتَنِیْ۔[1] [1] صحیح البخاری: ۵۰۸۹۔ صحیح مسلم: ۱۲۰۷.