کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 410
کی نیت کے بعد جائز نہیں۔ حج کی اقسام اب آپ نے احرام باندھ لیا ہے اور حج کی نیت کرنی ہے تو حج کی تین قسمیں ہیں: (1) حجِ تمتع: حاجی حج کے مہینوں(شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ) میں عمرے کا احرام باندھے اور عمرہ کرکے حلال ہوجائے۔ پھر اسی سال8 ذوالحجہ کو دوبارہ احرام باندھے اور اس حج میں قربانی ہے۔ (2) حج ِقران: حاجی حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھے اور قربانی ساتھ لے کر جائے اور 10ذوالحجہ تک احرام نہ کھولے، اس کے لیے ایک سعی ہے خواہ وہ عمرے کے ساتھ کرلے یا پھر10ذوالحجہ کو کرلے (لیکن یاد رہے حجِ تمتع میں دو سعی ہیں)۔ (3) حجِ افراد: حاجی صرف حج کا احرام باندھے اور دس تاریخ تک احرام میں رہے گا۔ حج افراد میں قربانی نہیں ہوتی یہ بھی ایک سعی کرے گا خواہ طوافِ قدوم (جب مکہ میں پہنچے تو جو طواف کیا جاتا ہے) کے ساتھ کرلے یا پھر طواف ِحج(اور اس کو طواف افاضہ و زیارت بھی کہتے ہیں) میں کرے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ أَنْ یُہِلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ فَلْیَفْعَلْ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ یُہِلَّ بِحَجٍّ فَلْیُہِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ یُہِلَّ بِعُمْرَۃٍ فَلْیُہِلَّ)) [1] ’’تم میں سے جو شخص حج اور عمرے کا تلبیہ کہنا چاہے، کہہ لے، جو شخص صرف حج کا تلبیہ کہنا چاہے، کہہ لے اور جو شخص صرف عمرے کا تلبیہ کہنا چاہے، کہہ لے۔‘‘ [1] صحیح مسلم: ۱۲۱۱.