کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 409
فاطمہ بنت منذر بیان کرتی ہیں کہ: کُنَّا نُخَمِّرُ وُجُوہَنَا وَنَحْنُ مُحْرِمَاتٌ مَعَ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ۔[1] ’’ہم سیدہ اسماء بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما کے ساتھ احرام کی حالت میں ہوتی تھیں تو ہم اپنے چہروں پر خمار ڈال لیا کرتی تھیں۔‘‘ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی فرماتی ہیں کہ: کَانَ الرُّکْبَانُ یَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم مُحْرِمَاتٌ، فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَہَا مِنْ رَأْسِہَا عَلٰی وَجْہِہَا فَإِذَا جَاوَزُونَا کَشَفْنَاہُ۔[2] ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام میں ہوتی تھیں اور قافلے والے ہمارے سامنے سے گزرتے تو ہم اپنے پردے کی چادر کو سر سے چہرے پر لٹکا لیتیں۔ جب وہ گزر جاتے تو چہرہ کھول لیتی تھیں۔‘‘ بسا اوقات چہرے پر کپڑانہ لگانے کے لیے عورتیں اس طرح کرتی ہیں کہ ہیٹ پہن لیتی ہیں، جس کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے، اور وہ چہرے پر کپڑا لگنے کو عیب سمجھتی ہیں حالانکہ چہرے پر کپڑا لگنا کوئی عیب نہیں ہے۔ عورتوں کو صرف اپنے پردے کی حفاظت کرنی چاہیے اور اپنی زینت کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ﴾ [النور: ۳۱] ’’ سوائے اپنے خاوند اور محرم کے ا ور کسی کے سامنے اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں۔‘‘ لہٰذا خواتین کو چاہیے کہ اپنی چادروں سے اپنے چہروں کو ڈھانپے رکھیں۔ اس کے علاوہ آپ تیل اور کوئی خوشبو استعمال کرسکتے ہیں، لیکن یہ کام احرام کی نیت سے پہلے ہوگا اور احرام [1] إرواء الغلیل: ۴/۲۱۲۔ الموطأ: ۷۴۰. [2] سنن أبی داود: ۱۸۳۳۔ سنن ابن ماجہ: ۲۹۳۵.