کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 408
عورت کا احرام عورت کے لیے وہ مشروع لباس احرام ہے جو وہ عموماً پہنتی ہے لیکن اپنے چہرے پر نقاب نہ باندھے اور نہ ہی لثام (وہ کپڑا جو ناک اور اس کے ارد گرد لپیٹا جاتا ہے) اورنہ مندیل (رومال یا تولیہ) اور نہ ہاتھوں میں دستانے پہنے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَۃُ الْحَرَامُ وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَیْنِ)) [1] ’’احرام والی عورت نقاب نہ کرے اور نہ ہی دستانے پہنے۔‘‘ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: اَلْمُحْرِمَۃُ تَلْبَسُ مِنَ الثِّیَابِ مَا شَائَ تْ، إِلَّا ثَوْبًا مَسَّہٗ وَرْسٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ، وَلَا تَتَبَرْقَعُ وَلَا تَلَثَّمُ وَتُسْدِلُ الثَّوْبَ عَلٰی وَجْہِہَا إِنْ شَائَ تْ۔[2] ’’احرام والی عورت جو کپڑے چاہے پہن لے، سوائے اس کپڑے کے جس کو ورس یا زعفران لگا ہو، نہ ہی برقع پہنے اور نہ نقاب کرے، اور اگر چاہے تو کپڑا اپنے چہرے پر لٹکا سکتی ہے۔‘‘ اصل میں نقاب کو نقاب اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس سے عورت کا رنگ چھپایا جاتا ہے، البتہ عورت کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ سر پر خمار یا جلباب لٹکائے جس سے چہرہ ڈھک جائے۔ جلباب ایسی موٹی چادر یا عبا کو کہتے ہیں جو عورت کو سر سے لے کر قدموں تک تمام بدن اور اس کے کپڑوں اور زینت کو چھپا دیتی ہے۔ [1] صحیح ابن خزیمۃ: ۲۶۰۰۔ المعجم الأوسط للطبرانی: ۶۴۲۰۔ السنن الکبرٰی للبیھقی: ۹۰۴۴. [2] السنن الکبرٰی للبیھقی: ۹۰۵۰۔ إرواء الغلیل: ۴/۲۱۲.