کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 405
۲: عورت کے لیے یہ ضروری ہے کہ اپنے خاوند کی وفات یا طلاق کی عدت نہ گزار رہی ہو، ورنہ اس پر استطاعت کی شرط پوری نہیں ہوگی۔ سفر سے پہلے ضروری امور حج کے سفر پر جانے سے پہلے درج ذیل امور کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے: سفر شروع کرنے سے پہلے نیت کو خالص کریں، پچھلے گناہوں کی معافی مانگیں، اپنے والدین کو راضی کریں اور اپنی وصیت لکھیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ: ((مَا حَقُّ امْرِیٍٔ مُسْلِمٍ لَہٗ شَیْئٌ یُرِیْدُ أَنْ یُوْصِیَ فِیْہِ یَبِیْتُ لَیْلَتَیْنِ إِلَّا وَ وَصِیَّتُہٗ مَکْتُوْبَۃٌ عِنْدَہٗ))[1] ’’کسی مسلمان کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنی کسی چیز میں وصیت کرنا چاہتا ہو پھر دو راتیں گزار دے مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہو۔‘‘ اس کے بعد حج اور عمرے کے احکام کو سمجھیں، سفر شروع کرنے سے پہلے استخارہ کریں کہ کن ساتھیوں کے ساتھ جاؤں اورکس وقت اور کس دِن کو جاؤں۔ سفر ان ساتھیوں کے ساتھ کریں جو نیکی اور تقویٰ سے متصف ہوں اور سفر کے لیے گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھیں: بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ۔[2] ’’اللہ کے نام کے ساتھ، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی چیز سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی کچھ کرنے کی ۔‘‘ اور سواری پر بیٹھتے وقت سفر کی یہ دعا پڑھیں: اَللّٰہُ أکْبَرْ اَللّٰہُ أکْبَرْ اَللّٰہُ أکْبَرْ سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَاوَمَا کَنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ وَإنَّا إلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ، اَللّٰھُمَّ إِنَّانَسْئَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا [1] صحیح البخاری: ۲۸۳۸۔ صحیح مسلم: ۱۶۲۷. [2] سنن أبی داود: ۵۰۹۵۔ سنن الترمذی: ۳۴۲۶.