کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 402
چو نکہ استطاعت والی شرط پوری نہیں ہورہی، اس لیے اس پر حج فرض نہیں ہوتا۔ لیکن اگر اس کے پاس مال ہے اوروہ خود حج کرنے کی قوت نہیں رکھتا تو کسی کو اپنا نائب بنا سکتا ہے جواس کی طرف سے حج کرے، جیسا کہ جناب ابورزین العقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا والد بہت بوڑھا شخص ہے، وہ حج اور عمرے کی استطاعت نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ سواری پر سوار ہو سکتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَحُجَّ عَنْ أَبِیکَ وَاعْتَمِرْ)) [1] ’’اپنے والد کی طرف سے تم حج اور عمرہ کر لو۔‘‘ لیکن اس نائب کے لیے بھی شرط ہے کہ پہلے اس نے اپنا فرضی حج کیا ہو۔ جیسا کہ جناب ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو شبرمہ نامی آدمی کی طرف سے تلبیہ کہتے سنا (یعنی وہ اس کی طرف سے حج کر رہا تھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: شبرمہ کون ہے؟ اس نے کہا: میرا بھائی ہے، یا کہا کہ میرا قریبی رشتہ دار ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ((حَجَجْتَ عَنْ نَفْسِکَ؟)) ’’کیا تم نے اپنا حج کیا ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((حُجَّ عَنْ نَفْسِکَ ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَۃَ)) [2] ’’پہلے اپنا حج کرو، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔‘‘ (3) زادِراہ کا ساتھ ہو نا: اس شخص کے پاس اتنا مال ہو کہ سفر کے تمام اخراجات اور طعام وشراب اور رہائش کا بندوبست کر سکے، جس کی مندرجہ ذیل تفصیل ہے: [1] سنن الترمذی: ۲۶۲۱۔ صحیح الجامع: ۳۱۲۷. [2] سنن أبی داود: ۱۸۱۱۔ سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۳.