کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 400
پاگل شخص پر احکامِ شریعت لاگو نہیں ہوتے۔ جیسا کہ جناب علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ، عَنِ الصَّبِیِّ حَتّٰی یَبْلُغَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتّٰی یَسْتَیْقِظَ، وَعَنِ المَعْتُوہِ حَتّٰی یَبْرَأَ)) [1] ’’تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: بچے سے، حتیٰ کہ وہ بالغ ہو جائے، سوئے ہوئے سے، حتیٰ کہ وہ بیدار ہو جائے اور پاگل شخص سے، حتیٰ کہ وہ ٹھیک ہو جائے۔‘‘ ’’قلم اٹھا لیا گیا ہے‘‘ سے مراد ان لوگوں کے گناہ نہیں لکھے جاتے اور نہ ہی ان پر احکامِ شریعت عائد ہوتے ہیں۔ 3.بلوغت: جناب ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنا بچہ اٹھایا اور پوچھا: کیا اس کے لیے حج ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ وَلَکِ أَجْرٌ)) [2] ’’ہاں، اور ثواب تمہیں ملے گا۔‘‘ جناب ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَیُّمَا صَبِیٍّ حَجَّ ثُمَّ بَلَغَ الْحِنْثَ فَعَلَیْہِ أَنْ یَحُجَّ حَجَّۃً أُخْرٰی)) [3] ’’جو بھی بچہ حج کرے، پھر بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ دوسرا حج کرے۔‘‘ [1] سنن أبی داود: ۴۴۰۲۔ سنن الترمذی: ۱۴۲۳۔ سنن النسائی: ۳۴۳۲۔ سنن ابن ماجہ: ۲۰۴۱. [2] صحیح مسلم: ۱۳۳۶. [3] السنن الکبرٰی للبیھقی: ۸۶۱۳۔ صحیح الجامع: ۲۷۲۹.