کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 396
پانچواں رکن حج حج کی تعریف: لغت میں حج کے معنی ہیں:’’ قصد کرنا اور ارادہ کرنا۔‘‘[1] یعنی بیت اللہ کی زیارت کا ارادہ و قصدکرنا ۔ حَجَجْتُ فُلَانًا اس وقت کہا جاتا ہے جب کسی کو بتایاجا ئے کہ میں فلاں کے پاس بار بار آیاگیا یعنی بہت آمدورفت رکھی۔[2] اور اصطلاح میں حج کی تعریف یوں کی گئی ہے: اَلْقَصْدُ اِلٰی بَیتِ الْحَرَامِ بِأَعْمَالٍ مَخْصُوصَۃٍ۔[3] ’’بیت اللہ کا مخصوص اعمال کی ادائیگی کے لیے ارادہ کرنا (وہ اعمالِ مخصوصہ مناسکِ حج ہیں)۔‘‘ حج کی فرضیت فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَللّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ﴾ [آل عمران: ۹۷] ’’اور ان لوگوں پر اللہ ہی کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے جو اس کی طرف راہ (سفر) کی استطاعت رکھتے ہوں۔‘‘ جناب ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((بُنِیَ الْإِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ [1] فتح الباری: ۴/۴۷۶. [2] تحفۃ الأحوذی: ۳/۶۲۲. [3] تحفۃ الأحوذی: ۳/۶۲۲۔ فتح الباری: ۴/۴۷۶.