کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 395
اور سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا أَتَاکُمُ الْمُصَدِّقُ فَلَا یَصْدُرُ عَنْکُمْ إِلَّا وَہُوَ رَاضٍ)) [1] ’’جب تمہارے پاس صدقہ وصول کرنے والا آئے تو وہ تمہارے پاس سے خوش ہو کر ہی جانا چاہیے۔‘‘ نوٹ(3):… زکوٰۃوصول کرنے والے کو اگر زکوٰۃ دینے والا تحفہ دے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس سے تحفہ قبول کرے۔ جیسا کہ سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا بَالُ عَامِلٍ اَبْعَثُہٗ، فَیَقُوْلُ: ہٰذَا لَکُمْ وَہٰذَا اُہْدِیَ لِیْ، اَفَلَا قَعَدَ فِیْ بَیْتِ أَبِیْہِ أَوْ فِیْ بَیْتِ أُمِّہٖ، حَتّٰی یَنْظُرَ اَیُہْدٰی إِلَیْہِ أَمْ لَا)) [2] ’’عامل (زکوٰۃ وصول کرنے والے) کا کیا معاملہ ہے کہ میں اسے (زکوٰۃ لینے کے لیے) بھیجتا ہوں تو وہ (آ کر) کہتا ہے: یہ مال تمہارے لیے ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا؟ تاکہ وہ دیکھتا کہ اسے (گھر بیٹھے ہوئے) کوئی تحفہ بھیجا جاتا ہے یا نہیں۔‘‘ بلکہ زکوٰۃ وصول کرنے والے کامحاسبہ کرنا سنت ہے، جیسا کہ سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: اِسْتَعْمَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم رَجُلًا مِنَ الْأَسْدِ عَلٰی صَدَقَاتِ بَنِیْ سُلَیْمٍ یُدَّعَی ابْنُ اللُّتْبِیَِّۃِ فَلَمَّا جَائَ حَاسَبَہٗ۔[3] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اَسد قبیلہ کے ابن لُتبیہ نامی ایک شخص کو بنوسُلیم کے صدقات پر عامل مقرر کیا، جب وہ آیا تو آپ نے اس کا محاسبہ کیا۔‘‘ [1] صحیح مسلم: ۲۴۹۱. [2] صحیح البخاری: ۲۵۹۷، ۶۹۷۹، ۷۱۷۴، ۷۱۹۷۔ صحیح مسلم: ۴۷۱۵. [3] صحیح البخاری: ۱۵۰۰.