کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 391
الصَّلاَۃِ۔[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام و آزاد، مرد و عورت اور چھوٹے بڑے مسلمان پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو زکوٰۃ الفطر (فطرانہ) لازم کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ حکم فرمایا کہ لوگوں کے نمازِ عید کے لیے نکلنے سے پہلے پہلے ادا کر دیا جائے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم تھا کہ نماز (عید) کے لیے جانے سے قبل یہ صدقہ ادا کر دیا جائے۔[2] ایک روایت میں ہے کہ: کَانُوْا یُؤْتُوْنَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِیَوْمٍ أَوْ یَوْمَیْنِ۔[3] ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صدقہ فطر (فطرانہ) عید الفطر سے ایک یا دو دِن پہلے ہی دے دیا کرتے تھے۔‘‘ زکوٰۃ کے مصارف فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللّٰهِ وَاللّٰهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴾ [التوبۃ: ۶۰] ’’یقینا اموالِ زکوۃ صرف فقیروں، مسکینوں، عاملین (یعنی زکوۃ جمع کرنے کے امور سرانجام دینے والے افراد کو)اور ان کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب [1] صحیح البخاری: ۱۵۰۶۔ صحیح مسلم: ۲۲۸۰. [2] صحیح البخاری: ۱۵۰۳، ۱۵۰۴۔ صحیح مسلم: ۲۲۷۵. [3] صحیح البخاری: ۱۵۱۱.