کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 390
((لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِ فِیْ فَرَسِہٖ وَغُلَامِہٖ صَدَقَۃٌ)) [1] ’’مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکوٰۃ نہیں پڑتی۔‘‘ اورسیدنا ا بوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ فِی الْخَیْلِ وَالرَّقِیْقِ زَکٰوۃٌ إِلَّا زَکٰوۃُ الْفِطْرِ فِی الرِّقِیْقِ)) [2] ’’گھوڑے اور غلام میں زکوٰۃ نہیں ہے، البتہ غلام میں زکوٰۃ الفطر (فطرانہ) لازم ہے۔‘‘ 2. کھیتی باڑی کرنے والے مویشی: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلَی الْعَوَامِلِ شَیْئٌ)) [3] ’’کام کرنے والوں پر کوئی چیز (بطورِ زکوٰۃ) عائد نہیں ہوتی۔‘‘ 3. سبزیاں: سیدنا ا نس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ فِی الْخَضْرَوَاتِ زَکٰوۃٌ)) [4] ’’سبزیوں میں زکوٰۃ نہیں پڑتی۔‘‘ نوٹ (3): اسلام میں صدقہ فطر (فطرانہ) کا بھی ایک مقام ہے، اس لیے اس کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔ سیدنا ا بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: فَرَضَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم زَکَاۃَ الفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ عَلَی العَبْدِ وَالحُرِّ، وَالذَّکَرِ وَالأُنْثٰی، وَالصَّغِیرِ وَالکَبِیرِ مِنَ المُسْلِمِینَ، وَأَمَرَ بِہَا أَنْ تُؤَدّٰی قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَی [1] صحیح البخاری: ۱۴۶۳،۱۴۶۴۔ صحیح مسلم: ۲۲۷۰، ۲۲۷۱. [2] صحیح الجامع: ۵۴۱۲۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲۱۸۹. [3] صحیح ابن خزیمۃ: ۲۹۲. [4] صحیح الجامع: ۵۵۱۱.